مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹۴
Two Nation Theory کو وہ اسلام سے دور ہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم ڈائیلاگ پر سب سے زیادہ زور دیا ، نہ کہ ہمیں اپنے مسائل کو حل کرانے کے معاملے میں سرکار پر dependent رہنا چاہیے۔ تاریخ کے اوراق کو کھنگالتے ہوئے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا میں ایک ہزار سال سے مسلمان رہ رہے ہیں۔ یہ لوگ پہلے ہندو ہی تھے ، جو بعد میں مسلمان ہو گئے۔ اب بتائیے یہ نسلی اعتبار سے انڈین ہی تو ہیں۔ اس بات کے پیش نظر دونوں مذہبوں کے لوگوں کو بھائیوں کی طرح ایک ہی خاندان میں رہنا چاہیے اور باہمی مسائل بھی اپنے ہی گھر میں حل کر لینے چاہیے اور اسی سے ہندوستان میں ایک نیا سورج طلوع ہوسکتا ہے! غرضیکہ مولانا کے یہ سارے افکار آج بھی تازہ ہیں اور موجودہ انتشار کا حل پیش کرسکتے ہیں !
آخر میں مولانا وحید الدین خان اور ان کے مجموعی کنٹریبیوشن کے پیش نظر یہاں یہ بات بھی درج کی جاسکتی ہے کہ بھارت سرکار کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف تنظیموں اور اداروں نے انہیں کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا ، مگر وہ امن کا داعی ، اسلامی مفکر، عالمی دانشور نو بل پرائز کے مستحق تھے !۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مسلم رہنماؤں کے ذریعے بار بار آزمائے ہوئے بے نتیجہ تجربات کو چھوڑ کر ہمیں مرحوم وحیدالدین خان کے مشن کو آگے لے جانا ہوگا ، اسی میں قوم کی بھلائی ہے۔ (ہفت روزہ سری نگر سماچار، 26 اپریل 2 مئی 2021، صفحہ 8)
بچھڑا کچھ اس انداز سے کہ رت ہی بدل گئی ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا مولانا ہمارے لیے دین کا روشن چراغ تھے۔ جن کے سائے میں ہم نے اپنے من کی اندھیر نگری کو روشن پایا۔ وہ تنہا شخص ایک عہد تھا۔ اس کے جانے سے عہد بدلا ہے۔ (امین، اوکاڑرا)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues