مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹۵
امن اور عدم تشدد کا نقیب :
مولانا وحید الدین خاں حکیم شمس الافاق، نئی دہلی میری ملاقات :
غالباً اکتوبر 1976 کا واقعہ ہے۔ میرے ایک ملاقاتی جناب ڈاکٹر محسن عثمانی صاحب جو آل انڈیا ریڈیو عربی یونٹ میں ایک سرکاری عہدے پر فائز تھے، سے میری ملاقات مفتی عتیق الرحمن عثمانی صاحب کے دولت کدہ پر ہوئی تھی۔ یہ ملاقات گہری ہوتی گئی۔ تعلقات بڑھتے گئے۔ اسی بیج حیدر آباد ہاؤس کی لکڑی والی مسجد میں محسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اتوار کا دن تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آج میرے ہاسٹل میں ایک بزرگ تشریف لا رہے ہیں ان کا نام مولانا وحید الدین خاں ہے۔ ان کا لکچر ہے گھر پر، آپ تشریف لائیے۔ میں نے حامی بھرلی۔ ان کے گھر پر اکثر مولانا کی تقریر ہوا کرتی تھی جو بین المذاہب افراد پر مبنی ہوتی۔ میں حسب وعدہ پہنچا۔ دیکھا کہ ایک طویل القامت شخصیت، درخشاں چہرہ بالکل سادہ لباس میں موجود ہیں۔ اسی جگہ میری پہلی ملاقات مولانا مرحوم سے ہوئی۔ پھر دھیرے دھیرے تعلقات بڑھتے گئے۔ اور ایک دور ایسا بھی آیا کہ مولانا میرے غریب خانہ گول مارکیٹ پر ہر مہینے کے آخری Saturday کو تشریف لاتے ۔ بین المذاہب افراد کی موجودگی میں تقریر اور اصلاح کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس طرح مولانا سے قربت بڑھتی گئی۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ تک چلتا رہا۔ الرسالہ سے تعلق :
غالباً اکتوبر 1976 سے ماہنامہ الرسالہ سے جڑا۔ ایجنسی لی، اور الرسالہ کو اپنے حلقہ احباب میں متعارف کرایا۔ پڑھے لکھے با شعور اور سنجیدہ افراد نے ایک نئے ولولے کے ساتھ الرسالہ پڑھنا شروع کیا۔ میرے نرمان بھون کے دفتر میں الرسالہ کو پڑھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ الحمد للہ مولانا کی شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جو میری نظر سے نہ گزری ہو۔ غلط فہمیوں کی وجہ سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues