مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹۶
اکثر میرے کچھ ساتھیوں کو شکایت بھی ہوجاتی تھی۔ اور تقریر کے بعد یا دوران تقریر مولانا سے ذکر کرکے اس کا ازالہ چاہتے تھے۔ مولانا اس شکایت کا اس طرح ازالہ کرتے کہ تمام افراد اور خاص طور پر شکایت کنندہ بالکل مطمئن ہوجاتے۔
ایک واقعہ یہ ہے کہ مولانا تقریر کے دوران ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پر چہ لئے رہتے تھے۔ تقریر کے دوران اکثر قرآن کی کوئی آیت پڑھتے اور اسے دیکھتے۔ پھر اس کاغذ کو اپنی جانگھ کے نیچے دبا لیتے۔ یہ بات شکایت کنندہ امتیاز صدیقی صاحب کو ناگوار اور ناپسندیدہ لگتی۔ ان کی نظر میں یہ قرآن کی بے حرمتی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا۔ میں نے اسی وقت مولانا سے تقریر کے دوران یہ بات پوچھ لی کہ جناب امتیاز صاحب کو شکایت ہے کہ آپ قرآن کی آیت کو اپنی جانگھ کے نیچے رکھتے ہیں، یعنی آپ قرآن کا احترام نہیں کرتے۔ مولانا کی صفت یہ بھی تھی کہ کسی بات پر فوراً react نہیں کرتے تھے ۔ مسکرا کر کاغذ میری طرف بڑھا دیا۔ دیکھا تو اس کاغذ پر صرف ٹاپک کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً امن، اصلاح، وغیرہ جیسے الفاظ۔ سب لوگ شرمندہ ہو گئے اور غلط فہمی دور ہوگئی۔ یہ تھا مولانا کا مزاج۔ اصلاح کا یہ طریقہ لوگوں کو بہت پسند آیا اور ان کی محبت اور ان کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ عرصے تک اس طرح کی نشست ہوتی رہی۔ میرے 2006 میں ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اکثر احباب بھی retire ہوگئے، سب ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ پھر جب للیتا پارک، لکشمی نگر میں رہائش ہوئی تو یہ سلسلہ پھر شروع کیا۔ اس وقت مولانا کمزور ہو چکے تھے۔ اور حلقہ احباب بھی الگ الگ ہو گئے جس سے یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ لیکن الرسالہ کا مطالعہ اور احباب کے درمیان اس کی تقسیم اب بھی جاری ہے۔ تازہ شمارہ مئی 2021 کا میرے پاس ہے۔ حلقہ احباب جس میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی تھے، مولانا کی قلمی و علمی صلاحیت ، قابلیت، مقبولیت اور ان کی سادگی سے بہت متاثر تھے۔ وہ انسان کے روپ میں ایک فرشتہ نظر آتے تھے۔ میری ان سے ملاقات نظام الدین والے گھر 29-C پر اکثر ہوتی، کبھی اکیلے کبھی احباب کے ساتھ۔ ان کے کمرے کے چاروں طرف کتابوں کا انبار تھا۔ وہ اسی میں غرق رہتے تھے۔
امن کے نقیب:
یقیناً مولانا امن کے نقیب تھے۔ وہ communal harmony کے ایک بہت بڑے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues