Al-Risala · August 2021 · page 299

مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹۹

ساتھ کتابوں کو قبول کیا۔ یہ لوگ چند ماہ بعد دوبارہ آئے تو ان کی سوچ بدل چکی تھی۔ آج وہ امریکہ میں اسلام کی دعوت کا زبردست نظام چلا رہے ہیں۔ اور ایک داعی کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے علمی واقعات مولانا کے موجود ہیں۔ کہاں تک صفحہ قرطاس کو سیاہ کروں۔

کوئی بھی آدمی فرشتہ نہیں ہوتا۔ لیکن آدمی رہ کر زندگی گزارنا بڑی بات ہے۔ مولانا بھی آدمی تھے، فرشتہ نہیں ۔ انھوں نے ایک با مقصد زندگی گزاری۔ پوری زندگی مذہبی ، قومی اور ملی خدمات میں صرف کردی ۔ ان کا صرف یہ شیوہ تھا کہ اپنا کام کرتے رہو ۔ لوگ کیا کہتے ہیں اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ملک میں ہی بلکہ پوری دنیا میں امن اور سلامتی رہے۔ ملک ترقی کرے۔ مسلمان ترقی کریں۔ وہ اپنے ملک بھارت سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ملک کے ہر فرد سے پیار کرتے تھے۔ کسی کو بھی غیر نہیں سمجھتے تھے۔ کسی سے کوئی بھی شکایت نہیں تھی ۔ نہ کوئی ہندو تھا نہ کوئی مسلمان۔ سب اس رب العزت کی پیدا کردہ کائنات میں اولاد آدم تھے۔ سب بھائی بھائی ہیں۔ ہر جگہ ہر قوم میں ناپسندیدہ عناصر موجود ہوتے ہیں ان سے الگ ہو کر اپنا کام کرو۔ بس یہی ہمارا مشن ہے۔

مولانا نے انتہائی آسان زبان میں قرآن کریم کا انگریزی ہندی اور اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ عبدالکلام صاحب نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ میں نے مولانا کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ ایک زبردست مفکر ہیں۔ میں ان کو روحانی رہنما سمجھتا ہوں۔ اسی طرح انڈین ایکسپریس ، ٹائمس آف انڈیا جیسے نیشنل اخباروں نے مولانا پر مضمون لکھا۔ اردو اخبارات خاص طور پر راشٹریہ سہارا نے دو مکمل صفحہ کا مضمون شائع کیا ہے جو قابل غور ہے، سب کو پڑھنا چاہیے۔

مولانا کی تحریر بھی غضب کی ہوتی تھی۔ سمندر کو کوزے میں بھرتے دیتے تھے۔ ایک صفحہ کا الرسالہ کا مضمون اور مکمل سبق۔ کیا خوبی تھی جو دوسرے لوگ لمبی لمبی تحریروں اور تقریروں سے نہیں سمجھاپاتے تھے مولانا ایک صفحہ کے مضمون میں حل کر دیتے تھے۔ مولانا نے کبھی بھی جذباتی تقریر یا تحریر نہیں کی۔ یہ بڑی صفت تھی مولانا کی۔

بیسویں صدی کے جن علماء دین کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ان میں مولانا وحیدالدین خاں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page