مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰۰
کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصی طور پر بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینا ہی ان کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔ اس میں انھوں نے کلیدی رول ادا کیا۔ ان کا نظریہ دین سائنٹفک تھا۔ وہ اپنی تقریر اور تحریر کی بدولت غیر مسلم دانشور طبقے میں بہت مقبول تھے اور پسند کئے جاتے تھے۔ مولانا نے مذہب اسلام کو اعتدال پسند مذہب کے طور پر پیش کیا۔ کبھی بھی تشدد کا پیغام نہیں دیا۔ مولانا میرے مشیر تھے۔ جب بھی میں کسی پریشانی یا الجھن میں ہوتا ان سے شیئر کرتا۔ ان کو اپنے حالات بتاتا۔ مولانا بہت مفید مشورہ دیتے۔ میرے پیچیدہ مسائل سن کر حالات اور واقعات سے متاثر ہو کر ایک مضمون کمینہ پن کے عنوان سے الرسالہ میں شائع کیا جو بہت کارگر ثابت ہوا۔ اسی طرح ایک مسئلہ میری زندگی کے اہم موڑ پر ہوا۔ میں نے مولانا سے ذکر کیا۔ اس واقعہ سے بھی بہت متاثر ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد الرسالہ کے ذریعہ دوسرا مضمون غلط فہمی کے نام سے شائع ہوا۔ ان دونوں مضامین میں مولانا نے یہ ثابت کیا کہ غلط فہمی سے کیسے مسائل خراب ہوتے ہیں اور ان پر صبر کر لینے اور خاموشی اختیار کرنے سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ صبر پر اللہ کی غیبی مدد ہوتی ہے۔ مولانا نے معاشرہ کو خدا سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مولانا محترم بیسویں صدی کے آخری سب سے بڑے عالم تھے۔ جلیل القدر ہستی تھے۔ وہ بر صغیر کے واحد عالم تھے، جنھوں نے دور جدید میں اسلامی فکر کو بہت آگے بڑھایا۔ ان میں اعتدال پسندی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جو شخص اصلاح کی غرض سے کام کرنا چاہتا ہے اس کی مخالفت بھی ضرور ہوتی ہے۔ وہ غالباً پہلے آدمی ہیں جنھوں نے تنقیدی نظریہ کو اپنایا۔ دنیا کی تبدیلی کو دیکھا اور سمجھا۔ مولانا وحید الدین خاں جیسے جید عالم اور مصلح قوم وملت کا رخصت ہونا قوم اور ملت کا ایک بڑا خسارہ ہے۔ مولانا نے خود کو صرف مذہب تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ انھوں نے بھارت میں قومی یکجہتی اور فرقہ پرستی کے خلاف ماحول سازی کے لئے بھی اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کیا۔ بڑے سے بڑے فرقہ پرستوں کی زبان پر تالا لگا دینا صرف اور صرف مولانا مرحوم کا ہی کام تھا، دوسرا کوئی اس کام کو لگام نہیں دے سکتا۔ مولانا اعتدال پسندی کے نظریہ کے قائل تھے اور اپنی بات کہنے اور سمجھانے کا علمی ہنر بھی خوب جانتے تھے۔ اس کام کے لئے مولانا نے سوچا کہ جب تک بھارت کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں پرامن تعلقات قائم نہیں ہوں گے تب تک نہ تو قوم ترقی کرے گی ، نہ مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues