مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰۲
خیره نه کر سکے مجھے جلوۂ دانش فرنگ مولانا محمد عبد الہادی عمری، برمنگھم، یوکے جنوبی ہند کی مشہور درس گاہ جامعہ دارالسلام عمر آباد میں جب ہم زیر تعلیم تھے اس وقت برصغیر کی جن شخصیات کا طلبہ کے درمیان چرچا تھا ان میں مولانا وحید الدین خاں کا نام نمایاں تھا، خاص طور پر ان کی کتاب علم جدید کا چیلنج کے حوالے سے۔ اس کے ایک دو نسخے طلبہ تک پہنچے تھے، غیر درسی کتب کے اوقات مطالعہ میں اس کتاب کے مندرجات سینئر طلبہ سے ہم سنا کرتے۔ کتاب کا محققانہ اسلوب، قوت استدلال اور پھر اسلامی تعلیمات کی عظمت کے نقوش قاری کو ذہنی مرعوبیت سے نکال کر اسلام کی حقانیت کا قائل کرتے۔
پھر مولانا کی مختلف کتابوں کے مطالعہ کا شوق بڑھتا گیا۔ جب یہاں برطانیہ پہنچے تو ان کے ساتھ ملاقاتوں اور نشستوں کے کئی مواقع میسر آئے۔ بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود دعوتی کاز کے لئے ان کے خلوص اور تڑپ سے انکار ممکن نہیں۔
ہمارے بھائی شمشاد خان صاحب مؤسس اسلامی پروپیگنڈیشن سنٹر برمنگھم جو مشہور داعی شیخ احمد دیدات کے برمنگھم میں میزبان خاص ہوا کرتے، ان کی دعوت پر مولانا جب برمنگھم پہنچے تو ان کے پروگرامز کی فہرست میں جمعیت اہل حدیث، برمنگھم، برطانیہ کا مرکز بھی تھا۔ یہاں کے بعض علماء اور اراکین کے ساتھ مولانا کے تعلقات کا دائرہ قدیم اور وسیع تھا۔ جمعیت کی طرف سے شائع ہونے والے اردو مجلہ ماہنامہ صراط مستقیم کا ایک کالم درس قرآن ہے۔ اس میں عرصہ تک اس وقت کے مدیر مسئول مولانا محمود احمد میر پوری نے پسند کیا کہ مولانا کی تذکیر القرآن کا ہی حصہ شائع کیا جائے اور ماہنامہ الرسالہ دہلی کے مختلف مضامین اور اقتباسات بھی اس میں چھپتے رہے۔ مہمان گرامی نے صراط مستقیم کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں سے صراط مستقیم کی تعریف اور حوصلہ افزائی کی، اس دورہ میں مولانا کے ساتھ دو نشستیں ہوئیں، ایک خصوصی نشست جس میں اہم موضوعات پر علماء کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا بلکہ یوں کہیے کہ کچھ اشکالات پر گفتگو ہوئی۔ مولانا کا ایک
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues