Al-Risala · August 2021 · page 304

مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰۴

نگارشات میں فکر آخرت گویا مرکزی عنوان اور اہم نکتہ تھا کہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا زینہ بناؤ، موصوف کی بیشتر تحریریں اسی نکتہ کے گرد گھومتیں اور اسی نتیجہ کی طرف قاری کو وہ لے جانا چاہتے۔ ماہنامہ الرسالہ کا بیشتر حصہ فرد واحد کی صلاحیت کا نمونہ تھا کہچہ پرچہ کو شائع ہوتے ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرا، اس کا اپنا ایک طرز تھا۔ اس وجہ سے ہر ماہ نئے شمارہ کا قارئین کو شدت سے انتظار رہتا، بلاشبہ صحافتی دنیا میں یہ عظیم کارنامہ ہے۔

وہ مسائل اور دشواریوں کی شکایت کرنے اور اپنی محرومی یا ناکامی کا شکوہ کرنے، راستہ میں حائل سیاسی اور سماجی نا انصافیوں کے ذکر میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کے بجائے زور دیتے کہ ان رکاوٹوں سے اعراض کرتے ہوئے نئی راہیں تلاش کیجئے۔

گلہ نہیں جو گریزاں ہیں چند پیمانے نگاہِ یار سلامت ہزار میخانے جوانی اور بڑھاپا بڑھاپا کا دور انسان کے لیے عجز کی دریافت کا دور ہے۔ جس انسان کے اوپر بڑھاپا کا دور گزرے، وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ عجز کی دریافت دوسرے اسباب سے بھی جزئی طور پر ہوتی رہتی ہے، لیکن کامل معنوں میں عجز کی دریافت صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتی ہے۔

انسان جب جوانی کی عمر میں ہوتا ہے، اس کی تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں۔ اس کے تمام آرگن پوری طرح کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ان قوتوں کا مالک وہ خود ہے ۔ بڑھاپے کی عمر اس غلط فہمی کی تردید ہے۔ (مولانا وحید الدین خاں) میرے روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے کے مطابق، مولانا کی خاص صفت تھی۔

اپنے خلاف تنقید کو معتدل انداز میں سننا اور اپنی غلطی کو ماننے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا۔ (فرہاد احمد، نئی دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page