Al-Risala · August 2021 · page 308

مولانا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان برج تھے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰۸

علمی وادبی دنیا کا بہت بڑا خسارہ فیروز خان، دیوبند معروف عالم دین مولانا وحیدالدین خان 96 سال کی عمر میں علالت کے باعث انتقال کرگئے ۔ وہ نئی دہلی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں ۔ ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی علاقے کی فضا سوگوار ہوگئی۔ مولانا وحیدالدین خان کے سانحہ ارتحال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا وحیدالدین خان نے اپنی زندگی میں درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی تفسیر بھی لکھی، ان کی علمی خدمات کے باعث حکومت نے انہیں دوسرے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پدم وی بھوشن سے بھی نوازا تھا۔ اللہ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا محمد شریف خان قاسمی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک کرکے ساری بڑی ہستیاں بچھڑتی جارہی ہیں، روزانہ کوئی نہ کوئی جانے پہچانے ہمارے درمیان سے رخصت ہورہے ہیں، ہم نے اپنی زندگی میں اس تواتر کے ساتھ اپنوں کو کھوتے ہوئے نہیں دیکھا، خدا کرے کہ یہ سلسلہ دراز نہ ہو، ایک دن میں کئی کئی جاننے والوں کی جدائی کا غم اٹھانا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم پانچ زبانیں جانتے تھے۔ ان کی تحریریں بلاتفریق مذہب ونسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ وہ دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ ان کا مشن مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیرمسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا تھا۔ ان کے مشن کو جاری رکھنا ہی انہیں سچی خراج عقیدت ہوگی۔

عالمی شہرت یافتہ شاعر وماہر تعلیم ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ مولانا وحیدالدین خاں بڑی عہد ساز شخصیت کے مالک تھے انھوں نے بہت منظم طریقہ پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا۔ مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحیدالدین خان سے سیکھے۔ وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے۔ ان سے بہت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page