تعلقاتِ انسانی کا اصول
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵
یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (renaissance) کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے طریقے دریافت کیے۔ یہاں تک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and customer) کی مساوات تھی۔ اس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔ اس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ وہ حاکم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آ سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جدید اقتصادیات (economy) کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہو سکے ۔ اس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہو گئے۔
جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ دوسرا اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابل عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اپنی مادی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اُنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طور پر وہ ان قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے خارجی زندگی میں اُنھیں مغربی قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا ۔ اس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی۔ یعنی داخلی طور پر منفی رائے رکھتے ہوئے خارجی معاملات میں ان کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اپنی مادی زندگی کی تعمیر کرنا ۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔
اس بُرائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اول کی طرف فکری واپسی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues