Al-Risala · October 2021 · page 16

تعلقاتِ انسانی کا اصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶

یعنی دور اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق صحیح مساوات ہے۔ اس مساوات کو دوبارہ قائم کرکے مسلمان موجودہ دوغلی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کرسکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔ آئیڈیالوجی آف دعوہ حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ مثلاً ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحْبَنِي، وَمَنْ أَحْبَنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّة (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9439)۔ یعنی جس نے میری سنت زندہ کی، یقیناً اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔ اس حدیث کو سامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک دعوت الی اللہ کی سنت ہے، جو آج عملاً زندہ نہیں۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملی خدمت یا اصلاح المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اس اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25:52) کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئیڈیالوجی (ideology of dawah) درکار ہے۔ ایک ایسی آئیڈیالوجی جو اسلام کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page