Al-Risala · October 2021 · page 17

تعلقاتِ انسانی کا اصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷

جدید علمی اصول پر ثابت شدہ بنائے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو اسلام کے راستے میں ذہنی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہو۔ یہ خاتمہ فریق ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طور پر کیا جائے گا۔ اسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (7:7)۔ یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔ اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ان جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ان نظریات کی ایسی توضیح (explanation) کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کر سکے۔ بصورت دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتم رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ وہ جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتم رسول کے ہم معنی ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طور پر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطور خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آجاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اسلام آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اس بنا پر اسلام اس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page