Al-Risala · February 2021 · page 16

امت محمدی کی ذمے داری

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶

سے مراد مفسرین کے نزدیک اہل کتاب ہیں۔ ’’پوچھ لو‘‘ کا مطلب مطلق معنی میں اہل کتاب کے پاس جا کر ان سے پوچھنا نہیں ہے، بلکہ تو سیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس علم وتحقیق کے میدان میں مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں، اس میں وہ اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں۔ مثلاً یہ کہ قرآن میں بہت سی تاریخی حقیقتوں کا بیان ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ، پیغمبر موسی (علیہم السلام) اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں باکیل میں بھی مذکور ہیں۔ دورِ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology) بھی ہے۔

آرکیالوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعے ماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ ، ثقافت اور محفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کتابت کے آغاز سے قبل قدیم ہجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان کی تاریخ وثقافت سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، یعنی آثارِ قدیمہ کی تلاش۔

چنانچہ موجودہ زمانے میں جہاں دیگر علاقوں میں آثارِ قدیمہ پر سائنسی اصول کی روشنی میں کام ہوا ہے، وہیں ان علاقوں میں بھی کام ہوا ہے، جو باکیل یا قرآن میں مذکور تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً کشتی نوح کی ڈسکوری، حضرت ابراہیم کا مقام پیدائش اور مقام ہجرت، فرعون کی لاش، وغیرہ۔ یہ کام زیادہ تر اہل کتاب ، یہود اور کرپچن آرکیالوجسٹوں نے کیا ہے۔ اسی طرح جدید سائنسی تحقیقات جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں، وہ بھی ان اہل کتاب نے دریافت کیے ہیں۔ لیکن مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اب مسلمان علما کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ان اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں، اور اپنے دین کو یقین مزید کی بنیاد فراہم کریں۔

امت محمدی کی ذمے داری

جہاں تک امت محمدی کی دینی اعتبار سے ذمے داریوں کا سوال ہے، وہ امت نے قدیم دور میں بخوبی طور پر انجام دیا ہے۔ لیکن دور جدید میں امت محمدی اس معاملے میں پیچھے رہ گئی۔ اس کا سبب

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page