تعلقاتِ انسانی کا اصول
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸
میں ذاتی طور پر شتم رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طور پر وہ اس کا جواب دیں۔ اس موضوع پر میں نے "شتم رسول کا مسئلہ" کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191 صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہے۔ تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتم رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور وہ يُقتل حدًا (بطور حد قتل کیا جائے گا) کا کیس ہے، تب بھی اس کو اس معاملے میں اجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اِس معاملے کو اَلضَّرُورَاتِ تُبیحُ الْمَحْظُورَاتِ (الموافقات للشاطبی، جلد 5، صفحہ 99) کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں موقوف (suspended) قرار دے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے۔
اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طور پر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوتے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جونئ رکاوٹیں پیدا ہوئیں ہیں، ان کا اس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل اُنھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔
ان مسائل سے صرف نظر کر کے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطورِ خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن (3:188) کے الفاظ میں يُحِبُّوْنَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو) کا مصداق ہو گا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues