Al-Risala · October 2021 · page 19

تعلقاتِ انسانی کا اصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹

دعوت الی اللہ

دعوت الی اللہ تمام پیغمبروں کا مشن تھا اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی۔ دعوت الی اللہ کا مطلب ہے لوگوں کو اللہ کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا۔ گویا دعوت خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کا ایک عمل ہے۔ انبیاء کے لیے اتمام حجت کا جو معیار مقرر کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیں (النحل، 16:35)۔ چنانچہ انبیاء نے اپنی قوم کو قول بلیغ میں خدا کا پیغام پہنچایا۔ قول بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو۔ دنیا کے فطری قانون کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان دوسروں کو صرف باخبر کر سکتا ہے۔ قرآن میں رسول اللہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے: تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (القصص، 28:56)۔ اس آیت کے تحت مفسر النسفی (وفات 710ھ) لکھتے ہیں: لا تقدر أن تدخل في الإسلام كل من أحببت أن يدخل فيه (تفسیر النسفی، جلد 2، صفحہ 649)۔ یعنی تم قدرت نہیں رکھتے ہو کہ تم جس کو چاہو اسلام میں داخل کرلو۔ اسی حقیقت کو دوسری سورت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: پس تم یاد دہانی کر دو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں (88:21-22)۔ ان آیات کے مطابق، ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ کسی انسان کو اپنے دین میں لے آئیں، اور نہ ہی اس کو دعوت کی کامیابی کا معیار بنانا چاہیے۔ بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دوسروں تک خدا کا پیغام حکیمانہ انداز میں پہنچا دیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں دعوتی عمل کے لیے جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ سب اطلاع اور آگاہی کے معنی میں ہیں۔ مثلاً صدع بالامر (الحجر، 15:94) یعنی حکم کو کھول کر سنانا۔ تبیین ذکر (النحل، 16:44) یعنی نصیحت کو بیان کرنا۔ ایذان وحی (الانبیاء، 21:109) یعنی وحی کی اطلاع دینا۔ ابلاغ رسالہ (الاعراف، 7:79) یعنی خدا کا پیغام پہنچاتنا۔ قص آیات (الاعراف، 7:35) یعنی آیات کو سنانا۔ قرات قرآن (الاسراء، 17:106) یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ تلاوت کتاب (العنکبوت، 29:51) یعنی کتاب کو پڑھ کر سنانا۔ انذار وتبشیر (سباً، 34:28) یعنی خوش خبری دینا اور آگاہ کرنا۔ نداء لایمان ( آل عمران، 3:193) یعنی ایمان کی پکار لگانا۔ دعوت الی الاسلام (الصف، 61:7) یعنی اسلام کی دعوت۔ تبلیغ ما انزل اللہ (المائدة، 5:67) یعنی خدا کے نازل کردہ پیغام کو پہنچانا۔ تذکیر بایام اللہ (ابراهیم، 14:5) یعنی اللہ کے دنوں کو یاد دلانا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page