Al-Risala · February 2021 · page 17

امت محمدی کی ذمے داری

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷

یہ ہے کہ جدید دور میں ایسے ڈیولپمنٹ وجود میں آئے ، جو سیکولر قوموں کے لیے ایک محرک بن گئے۔ اس محرک کی بنا پر وہ ان تمام اسباب کو وجود میں لائے ، جن کو سائنس اور ٹکنالوجی کی دریافت کہا جاتا ہے۔ یہ اسباب اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے منصوبہ کی عالمی تکمیل کے لیے انفراسٹرکچرل سپورٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انفراسٹرکچرل سپورٹ کا یہ کام تقریباً تمام تر مغربی قوموں نے انجام دیا ہے۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش اور ریسرچ کے ذریعے ان تمام اسباب کو ڈیویلپ کیا ، جو اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔

اسی کے ساتھ خالق کی جانب سے مزید یہ ہوا کہ اس نے عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے رکھ دیے۔ علم طبقات الارض کے ماہرین (geologist) اس کو جغرافی حادثہ (geological accident) کہتے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے تخلیق خداوندی کا حصہ ہیں ، جو اس لیے وجود میں آئے ، تا کہ امت محمدی اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے ہر ممکن قیمت ادا کر سکے ۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اسی دور میں ایک حادثہ پیش آیا ، جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام نے دے دی تھی۔ یہ حادثہ فتنۂ دہیماء (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 4242) ، یعنی کامل اندھیرا (utter darkness) کا فتنہ تھا۔

اس فتنے کی بنا پر مسلمان کامل طور پر اس سے بے خبر ہو گئے کہ سیکولر قوموں نے اللہ کی توفیق سے وہ تمام اسباب پیدا کر دیے ہیں ، جن کو استعمال کر کے شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ فتنۂ دہیماء کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کیا جائے ، تو معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اس سے مراد نفرتِ مغرب (westophobia) کا فتنہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عالمی سطح پر ویسٹوفوبیا کا شکار ہو گئے۔ اس لیے وہ اس عظیم نعمت کو دریافت نہ کر سکے ، تا کہ وہ اس کو دعوتی مواقع (opportunities) کے طور پر آویل کرے۔ فتنۂ دہیماء یا ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ظاہری اسباب کیا تھے ۔ وہ یہ تھے کہ مغربی قوموں نے فطرت کے قوانین (natural laws) کو دریافت کیا ، اور طاقت کے جدید

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page