Al-Risala · October 2021 · page 30

27 نومبر 1985

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰

نے تیار کیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتی کہ وہ عربی مدارس اور اسلامی اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لغت بن گیا۔

اس لغت میں متعدد مقامات پر عیسائی ذہن کی ترجمانی ہے۔ مثلاً ایک عربی لفظ ”الطّلقاء“ ہے۔ یہ طلق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے مشرکین سے فرمایا تھا: اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطّلُقَاء ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 412 )۔ یعنی جاؤ، تم سب آزاد ہو۔ اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق ، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے لیکن جب پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کر دیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔

مگر المنجد میں الطُّلَقَاء کا مفہوم ان الفاظ میں دیا گیا ہے:

الذین أدخلوا فی الاسلام کُرهاً (وہ لوگ جو اسلام میں زبردستی داخل کیے گئے )۔ ظاہر ہے کہ الطُّلَقَاء کا یہ مفہوم اس کے اصل مفہوم کا بالکل الٹا ہے۔ اس طرح کی اور بھی غلطیاں المنجد میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں عربی کا کوئی ایسا لغت تیار نہیں کیا جو المنجد کی جگہ لے سکے۔ اس لیے ان غلطیوں کے باوجود عملاً اس کا رواج ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں لغت کے علاوہ دوسرے علوم کا بھی ہوا ہے۔

27 نومبر 1985

حدیث میں ہے : مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3062 )۔ یعنی زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہوگا۔

دوسری حدیث ہے : لَا يَجْتَمِعُ مَاءَ زَمْزَمَ ونار جَهَنَّم في جَوْف عبد أبدا ( الفردوس

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page