30 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۸
خیالات کے حامل ہوں۔ عزم ویقین کا یہ سفر زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق ہے۔ علم کے میدان میں آج تک جتنی کامیابیاں ہمیں نظر آتی ہیں وہ سب اسی امید بھری مسلسل محنت کی وجہ سے ہیں۔ اس سفر میں شبہ یقین (semi-conviction) کے ساتھ کوشش زیادہ اور دیر پا فائدہ نہیں دے گی۔ بلکہ یہاں دائمی یقین سے آگے بڑھتے رہنا ہے۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (15:99)_ یعنی اللہ کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تمھارے پاس یقین آچائے۔ اس یقین اور امید کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر طائف میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ جب آپ طائف پہنچے، اور وہاں کے لوگوں کو دعوت دین دینا شروع کیا اور سب کو ایک اللہ کی عبادت کے لیے کہا تو طائف کے لوگ بھڑک اٹھے۔ انھوں نے اپنے شہر کے لڑکوں کو اکسایا کہ وہ آپ کو پتھر مار کر شہر کے باہر کر دیں۔ آپ طائف سے باہر ایک باغ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ روایت کے مطابق، اس وقت خدا نے پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے پاس بھیجا۔ ملک الجبال نے آپ سے کہا کہ طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو خدا نے دیکھا۔ اب اگر آپ اجازت دیں تو میں طائف کے اطراف میں واقع پہاڑوں کو ایک دوسرے میں ملا دوں۔ تا کہ طائف کے لوگ اس میں دب کر ختم ہو جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں۔ طائف کی موجودہ نسل نے اگرچہ میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا) صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3231 ، (بحوالہ مولانا وحید الدین خاں، الرسالہ جون۔ جولائی 2021، ص 27)۔
اگر پہاڑوں کا فرشتہ اہل طائف کو روند ڈالتا تو آج طائف فقط عبرت کی جگہ ہوتی۔ مگر رحمتہ للعالمین نے جس مثبت سوچ اور امید کا اظہار کیا، اسے اللہ نے بعد میں پورا فرمایا۔ چنانچہ اہل طائف فتح مکہ (8 ھ) کے بعد اسلام لے آئے۔ اس کے بعد یہ لوگ ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کی خدمت میں لگے رہے۔ مثلاً صحابی رسول حضرت ابو عبید مسعود ثقفی طائف کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے حضرت عمر کے زمانہ میں مسلم فوج کی قیادت کرتے ہوئے فارس (ایران) کے خلاف جہاد کیا اور
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues