Al-Risala · February 2021 · page 23

قرآن اور بائبل

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳

قرآن اور بائبل

مستشرقین (Orientalists) کے ایک طبقہ کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے بائبل اور قرآن دونوں کا مطالعہ کیا تو انھوں نے پایا کہ قرآن میں کئی چیزیں، خصوصاً نبیوں کے حالات ایسے ہیں جو قرآن اور بائبل میں بظاہر مشترک ہیں۔ چوں کہ بائبل کا زمانہ قرآن سے پہلے کا زمانہ ہے۔ اس لیے ان مستشرقین نے یہ فرض کر لیا کہ قرآن کوئی مستقل کتاب نہیں، بلکہ وہ سابق کتاب بائبل سے ماخوذ ہے۔ ایسی رائے رکھنے والے کچھ مستشرقین یہ ہیں :

Abraham Geiger, C C Torrey, Richard Bell, Torr Andre, Karl Ahrens, Wilhem Rodulph مسلم اہل علم نے جب اس قسم کے مستشرقین کو پڑھا تو انھوں نے ردعمل کے طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ یہ مستشرقین متعصب ہیں۔ وہ اپنے اس متعصبانہ ذہن کی بنا پر چاہتے ہیں کہ قرآن کا درجہ گھٹائیں اور بائبل کا درجہ بڑھائیں۔ مگر مسلمانوں کا یہ ردعمل بھی اسی طرح خلاف واقعہ تھا، جس طرح مستشرقین کا یہ سمجھنا کہ قرآن صرف ایک ماخوذ کتاب ہے۔

اصل یہ ہے کہ اللہ نے جو انبیاء بھیجے، وہ سب ایک ہی تعلیم کو لے کر آئے تھے۔ مگر قدیم زمانے میں کسی کلام کو محفوظ کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ موجود نہ تھا۔ اس لیے پچھلی کتابیں صحت کے ساتھ محفوظ نہ رہ سکیں۔ اللہ نے ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں قرآن کو اتارا۔ یہ گویا پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ نسخہ(corrected version) تھا۔ اسی بنا پر قرآن کو مُهَيْمِن (المائدة: 48) کہا گیا ہے۔ یہی اس معاملے میں حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اس نقطہ نظر کے تحت بائبل اور قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قاری کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ دونوں کے بارے میں منصفانہ رائے قائم کر سکے۔ ہم کو چاہیے کہ ہم قرآن کے بارے میں جو رائے قائم کریں، وہ مبنی بر عدل ہو۔ اسی طرح بائبل کے بارے میں جو رائے قائم کریں وہ بھی مبنی بر عدل ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page