Al-Risala · February 2021 · page 24

قرآن اور بائبل

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴

ایک خط

کل (16 ستمبر 2020) کو ایک سلفی ساتھی سے فون پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مولانا وحید الدین خان صاحب سے جڑنے کے بعد آپ ایک بڑے حلقے سے کٹ گئے۔ پہلے آپ عبودیت کے داعی تھے، ایک مسلم تنظیم کا آپ کو سپورٹ حاصل تھا، آپ لوگوں کا ہر جگہ آنا جانا تھا، جس سے لوگوں میں دعوتی بیداری پیدا ہوتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ بات افسوس کرنے کی یا کسی حلقے سے کٹنے کی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ اپنی کمی کی اصلاح ہے، اور اتباعِ سُبُل کے بجائے صراط مستقیم (الانعام، 6:153) پر قائم رہنا ہے۔ رہا ہمارا دائرہ کار، تو وہ اپنے حقیقی مطلوب کے اعتبار سے بہت وسیع ہو گیا ہے۔ یعنی معرفت کے اعتبار سے ہمارا دائرہ کا ئناتی ہو گیا ہے، اور دعوت کے اعتبار سے اب وہ عالمی بن گیا ہے۔ اس حقیقت کو جدید دور کی نسبت سے مولانا نے واضح کیا ہے۔ اس بات کو جاننے کے بعد ہر اعتبار سے ہمارا تعلق وسیع ہو گیا ہے۔ گویا اس وقت ہم کو مواقع کی لامحدود دنیا میسر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ جب کہ آپ جس حلقے کی بات کر رہے ہیں، اس میں معرفت کا عظیم تصور نہیں ہے، اور نہ ہی دعوت کی ذمے داری کا حقیقی منصوبہ ہے۔ یہی وہ کمی تھی، جس کا ازالہ مطلوب تھا، اور یہ مطلوب ہمیں الرسالہ مشن کی شکل میں ملا ہے۔ لہٰذا ہمارا فیصلہ ہمارے ذاتی تلاش کی نسبت سے تھا، نہ کہ کسی جماعت کی نسبت سے۔ اب جس کے پاس اس بات کی اہمیت نہیں، ان کے ساتھ جڑنا گویا کائناتی معرفت اور عالمی دعوت سے کٹ جانا ہے، اور ہم اس کا تحمّل نہیں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ مولانا اخوانی اور انقلابی ذہن کے نہیں ہیں، امن کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان کے پس منظر کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے۔ میں نے اس بات پر کہا کہ مولانا کا ایک اور حقیقی پہلو ہے، جس کے بارے میں آپ نہیں جانتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ سلفی حضرات خصوصی طور پر توحید کی بات کرتے ہیں، مگر ہم عرضے سے یہ جانتے ہیں کہ ان کے یہاں توحید کے نام پر صرف فنی بحثیں ہوتی ہیں۔ مگر خدا کی عظمت اور اس کی ربوبیت کا اظہار، جو اس دور میں بڑے پیمانے پر ہوا ہے، اس کا احساس کسی سلفی کو نہیں ہے۔ وہ قدیم بحثوں میں ہی مصروف ہیں، اور ان جدید

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page