اضافہ
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵
استدلال اور سائنسی حقائق سے بے خبر ہیں، جن کا تعلق ازدیاد ایمان اور اثبات توحید سے ہے۔ دورِ جدید میں مولانا نے اللہ تعالیٰ کی عظمت و معرفت کو بطور خاص اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے، اور اپنی کتابوں اور خطابات میں اس کو واضح کیا ہے۔ مگر آپ حضرات اس بات سے بے خبر ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے سلفی عالم دین نے مولانا سے اختلاف کا سبب بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص نے مسلمانوں کو خذلان (abandoned) میں مبتلا کیا، ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر انھوں نے یہ نہیں جانا کہ ہم کو اس شخص کا ساتھ دینا چاہیے، جس نے دورِ جدید میں خدا کی عظمت کا اظہار کیا ہے، اور اس کے اثبات کے لیے مذہب اور جدید چیلینج اور اس جیسی بہت سی تحریریں لکھی ہے، اسی طرح سیاسی منہج کی جگہ تعبدی منہج کو واضح کیا ہے، اور اس تعلق سے تعبیر کی غلطی جیسی کتاب لکھی۔ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کہا۔ کیونکہ ان کے پاس حقیقی مسئلہ عبودیت نہیں ہے، بلکہ قومیت حقیقی مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ عظمت رب کا نہیں ہے، بلکہ عظمت قوم کا ہے۔ باقی باتیں جن کے بارے میں سلفی حضرات کو اعتراض ہوسکتا ہے، وہ ذیلی باتیں ہیں، حقیقی نہیں۔ اس کے بعد بات ختم ہوگئی۔ اس گفتگو سے میرا احساس یہ ہے کہ لوگ مولانا کے بارے میں ادھر ادھر کی بات کرتے ہیں مگر معرفت اور دعوت کو لیکر بات نہیں کرتے۔ صرف اپنے قومی مسائل کو لیکر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ، میرے خیال میں، پچھلی قوموں کی اتباع ہے۔ جب بھی کوئی مصلح حقیقی دین کی طرف بلاتا ہے تو لوگ اپنے قومی مفادات کی نسبت سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں، جب قوم کی پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے تو لوگ اس کو قوم کی بے عزتی سمجھتے ہیں، اور اس طریقے سے توحید اور دعوت کے بجائے قوم ان کا موضوع بن جاتا ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری عمر آباد، تامل ناڈو)
اضافہ
اس مکتوب سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ اپنے قاری کے اندر کس قسم کا ذہن بناتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (55:29) ۔ یعنی ہر دن وہ ایک شان میں ہے۔ اس آیت کا تقاضا ہے کہ ہر دن مومن کے لیے خدا کی عظمت کا ایک نیا پہلو دریافت ہو۔ اس وقت مومن یہ کہہ پڑے کہ یا للعجب ! خدا کی عظمت کا ایک نیا پہلو جواب تک میرے لیے نہیں کھلا تھا، آج وہ کھلا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues