خواتین میں دعوت
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶
خواتین میں دعوت
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ مثلاً کوئی ابن تیمیہ کو اپنا ماڈل بنا لیتا ہے اور کوئی غزالی کو اپنا ماڈل سمجھ لیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھ لیتے ہیں۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا گول ان کے معیار کے مطابق اچیو بل (achievable) نہیں ہے تو وہ نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کر سکتے۔ الرساله مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ مز فہمیدہ خان (پیدائش 1964) ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ فیض آباد میں رہتی ہیں، اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔ وہ میری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں، اور میری تقریریں سنتی ہیں۔ کچھ دنوں کے لیے ان کا دلی آنا ہوا۔ اس دوران انھوں نے میری سنڈے کلاسز اٹینڈ کیں۔ یہ ان کی زندگی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس کلاس کے بعد ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پا رہی ہیں۔ ان کے اندر زبردست جذبہ پیدا ہوا کہ انھیں دعوت کے لیے اور کوشش کرنی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اللہ سے بہت زیادہ دعا کی۔ اس کے بعد ان کے ذہن ایک نیا آئیڈیا آیا۔ انھوں نے سی پی ایس کی خواتین ممبرس سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں نے الرسالہ مشن کی آئیڈیالوجی کے مطابق آپس میں ڈسکشن شروع کیا۔
اس خواتین واٹس ایپ گروپ میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آدابِ زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو، یا جس پر ان کو clarity نہ ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔ یہ ڈسکشن قرآن وحدیث اور الرسالہ کے مضامین پر میں کرتا ہے، یا ذاتی تجربات پر۔ اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور برابر ان کا انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور) نے یہ تاثر دیا: ” آج میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues