Al-Risala · February 2021 · page 28

مقصد کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸

مقصد کی تلاش

اس عظیم کائنات کو دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ایک سنصیر (sincere) انسان کے ذہن میں آتا ہے، وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی ان دیکھی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر اب یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے، نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانے کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں، اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے، بلکہ ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے، اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجاۓ تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے، اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک، اتفاق اور دوسرا، قانون علت (law of causation)۔ یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریبا دو لاکھ ارب (دو سو ٹریلین) سال پہلے کائنات کا وجود نہ تھا۔ اس وقت ستارے تھے، اور نہ سیارے، مگر فضا (space) میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا۔ بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے (electrons) اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضائے بسیط (vast space) میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطہ نگاہ سے یہ توازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل (interruption) ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجیے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page