مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹
ریاضی کے ذریعے ثابت ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل (minutest disruption) واقع ہوا، جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پرسکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جن میں سے بعض کو ہم ستارہ، بعض کو سیارہ اور بعض کو نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔ کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ توجیہہ نہایت کمزور تو توجیہہ ہے، خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہوسکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی۔ مگر اس کے باوجود اتھیسٹ لوگوں (atheists) کا دعوی ہے کہ انھوں نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے، اور اس محرک اول کا نام ان کے نزدیک اتفاق ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب وغریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا، جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے، اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے ۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعے سے پہلے ایک واقعے کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے، جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعے کا سبب بن سکے۔ مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعے سے ہوتی ہے، جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے، جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریے کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی ہے۔
پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے، جو انھوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے، بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے، اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues