مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰
موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔
آخر وہ کون سی منطق تھی، جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامتناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھر انا شروع کر دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظامِ شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس سے ہمارے کرۂ ارض پر وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہوئیں، جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا، اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جا چکا ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جو ایک خاص مرحلے پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول تو جیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی، اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔
پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبے میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کر دیں، جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے، جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آجانا، اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسنِ ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں، اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا تسلسل جاری رہے، اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعے میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی، اور اتنے عجیب و غریب طریقے پر مسلسل ارتقا کرنے کا رجحان اس میں کہاں سے پیدا ہو گیا۔
یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقے پر حرکت دے رہا ہے۔ اس تو جیہہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیا گیا ہے، اسی کو کائنات کا حاکم نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ تو جیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکتِ اول کی تو جیہہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues