مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱
لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے، مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی توجیہہ کے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اصولِ تعلیل (principle of causation) پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکت اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جارہے ہیں۔ اسی طرح جیسے بچے بہت سے اینٹیں کھڑی کر کے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے، اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے، بلکہ ناقابلِ تسخیر قوانین کے تحت حالات ما قبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علت اور معلول کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ جس صورت میں تاریخ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلہ واقعات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ جب ابتدائی صورت ایک دفعہ متعین ہو گئی تو قدرت صرف ایک ہی طریقے سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہو چکی ہے۔ اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینئروں کا تھا، جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانے میں جرمن ماہر طبیعیات ہیلم ہولٹز [1821-1894] Helm Holtz) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنس کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کر لینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی، مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہو سکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے، اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues