مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲
ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصولِ تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے انسانی اختیار اور ارادے پر یقین کرنا محال بنا دیا۔ کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے ۔ جب یہ دریافت ہوا کہ جاندار خلیہ (living cell) بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فورا سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم و دماغ بنے ہوئے ہیں، کیوں کر اصولِ تعلیل کے دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں۔ چناچہ یہ گمان کیا گیا، بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعوی کر دیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن (1727-1642] [Isaac Newton)، باخ (Johann Sebastian [1685-1750 Bach] اور مائیکل انجلو [1564-1475] Michelangelo) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے، اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔
مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصولِ تعلیل (principle of causation) کی اب قائل نہیں ہے۔ نظریہ اضافیت اصولِ تعلیل کو دھو کے (elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوتِ کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے، جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل انجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے۔ مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا سکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے، جو اول روز سے علت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لیے معین ہو چکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے، جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues