Al-Risala · February 2021 · page 33

مقصد کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳

میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف لیے جا رہا ہے۔

کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے، اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی، بلکہ اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریے کی تردید کر رہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے، جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔ معبود کی تلاش یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ میرا معبود کون ہے“۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں صریح طور پر ایک خلا (vacuum) محسوس کرتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ اس خلا کو کیسے پر کرے۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے ”معبود کی تلاش“ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔ اپنے وجود اور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبات ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا، شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا، کمزوری اور عجز کا۔

ہم اپنی زندگی کے جس گوشے میں بھی نظر ڈالتے ہیں، ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لیے ہمارے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کر سکیں۔ یہ تلاش ہمارے لیے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے، بلکہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے، اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔

غور کیجیے، کیا کوئی سنجیدہ آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعے کی حیثیت سے موجود ہے ۔ حالاں کہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page