مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴
اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے، جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کر سکتا۔ حالاں کہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب و غریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں، جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں۔ حالاں کہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے، اور نہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے، بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کر سکے۔ پھر اپنے جسم کے باہر دیکھیے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بنا سکیں۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو، اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے۔
مثال کے طور پر آواز کو لیجیے، جس کے ذریعے سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش (wave) بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابل فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے۔ اس کے لیے ہمارے اندر اور باہر بے شمار انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے، جس کو ہم ہوا کہتے ہیں۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں (waves) کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں، جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں، اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ میرے منہ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے، مگر میری آواز نہ سنیں گے۔ مثال کے طور پر شیشے کے ایک بند برتن کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ لیکن اگر اس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا جائے ، اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues