Al-Risala · February 2021 · page 35

مقصد کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵

تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھینگے ، مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی ۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو لہر پیدا ہوتی ہے، اس کو آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لیے شیشے کے برتن میں ہوا موجود نہیں ہے۔

مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے ۔ کیوں کہ ہوا کے ذریعے ہماری آواز پانچ سیکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لیے کارآمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے۔ وائرلیس (wireless) پیغامات میں اسی طریقے سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی اسپیکر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائیکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائیکروفون آواز کو جذب کر کے اسے برقی رو میں تبدیل کردیتا ہے، اور تار کے ذریعے اسی کو ٹرانس میٹر تک بھیج دیتا ہے۔ ٹرانسمیٹر آواز کے پہنچتے ہی فضا میں بہت ہی طاقت ور لہریں پیدا کر دیتا ہے۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں دولاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی ہے، اور لمحے بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وائرلیس موجیں (wireless waves) ہیں، جن کو ہمارے ریڈیوسٹ کی آواز گیر مشین قبول کر کے بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے، اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔ اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا سسٹم ہے۔ یہ ان بے شمار انتظامات میں سے ایک ہے، جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لیے کروڑوں صفحے درکار ہوں گے، اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا۔

یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی فائدہ اٹھارھا ہے، اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لیے مہیا کیا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page