Al-Risala · February 2021 · page 36

مقصد کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶

ہے۔ ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبہ شکر امڈتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا، اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو منذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اور کائنات پر غور کرتا ہے، اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبے کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے، جس کے اندر امڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لیے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے، جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں۔ جہاں جذبہ ہے، مگر جذبے کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔

یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس اسپیس کا تصور کیجیے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کی مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔

اتھاہ اسپیس میں اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا وجود قائم رکھنے کے لیے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازے کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان کنکریوں کی مانند ہو جائے، جو کسی تیزی سے گھومتے ہوئے پہیے پر رکھ دیے گئے ہوں۔ اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے، اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ ہوا کے ذریعے جو دباؤ پڑ رہا ہے، وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیا گیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page