مقصد کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۷
خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔
پھر ذرا سورج پر غور کیجیے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتا ہوا سمندر ہے، جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں، اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر آ جائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جائے۔ یہی سورج ہے، جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کو ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے، اور قریب آ جائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہو جائیں۔
پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھیے، اور اس قوت کشش پر غور کیجیے، جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کارخانہ ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ ماہرین فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے، مگر پوری کائنات کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ستارے اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپر ایک چھوٹے بال کی طرح رکھا جا سکتا ہے۔ جو قوتِ کشش ان بے شمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجیے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، اور اس کی وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، یہ غیر مرئی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں، اسی طرح دھاتی تاروں سے کرہ ارض ڈھک جاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues