Al-Risala · February 2021 · page 38

مقصد کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸

ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہے، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لیے دنیا میں جو انتظامات ہیں، اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ انتہائی اعلی پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ ان کو وجود میں لانے کے لیے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ موجودات کے لیے جو طریق عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتا ہے، جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو، جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتا ہے، جو کائنات کی قوتوں سے بالاتر ہو، اور جس کی پناہ میں آجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون تصور کر سکے۔

اس جذبے کو معبود کی تلاش کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ معبود کی تلاش دراصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے، جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے، اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو ساری کائنات کو کنٹرول کرتی ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خطے میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں ایک سماج کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں۔ مگر وہ انسان کی تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں۔ اس کے لیے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لیے ایک ایسا وجود چاہیے، جس نے کائنات (universe) کو بنایا ہو۔ اپنے سہارے کے لیے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے، جو کائنات کے اوپر با اختیار حکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا، اس کا خلا (vacuum) بدستور

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page