انجام کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹
باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر (fill) کرنے والی نہیں بن سکتی۔
انجام کی تلاش
حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزء اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے، وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلے میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے، مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات (feelings) ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔ ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے، یعنی دو لاکھ ارب سال (200 ٹریلین سال)۔ اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی، اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جس کو ہم ستارے، سیارے، اور نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریباً دو ارب سال پہلے ایسا ہوا کہ کائنات کا کوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا، جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں، اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا، زبردست لہریں پیدا ہوئیں، جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں، اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوت کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے۔ یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی میں سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام (objects) بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues