Al-Risala · February 2021 · page 40

انجام کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

سورج کے گرد گھوم رہے ہیں، اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔

زمین ابتدا میں ایک شعلے کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔ مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروڑوں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہو گئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑرہی تھی، جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے، اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھاگئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگر چہ ٹھنڈا ہو گیا تھا، مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا، اور وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہو گئیں۔ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑ گئے، اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے ۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلاتے، اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی ۔ بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب 23 کروڑ سال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے، جو پانی کے کنارے وجود میں آئے ۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف جانور رہے۔ اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اگنا شروع ہوئی ۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیدا ہوا۔

اس نظریے کے مطابق ، انسان کی ابتدا پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے ۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے۔ وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کیے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی تاریخ پلک جھپکنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page