انجام کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶
دنیا کی ضرورت نہیں۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہیے۔ مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں، اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ حالاں کہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے، جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آ کر رہے گا، اور کسی کا اس سے غافل ہونا، اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو گھل زندگی سمجھنا، اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطہ نظر کی لغویت فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ ایسا فیصلہ وہی کر سکتا ہے، جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھ بند کر لے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔ یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہیے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہونا چاہیے، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈکے ہوئے ہیں، اور مجسم شکر و سپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں، جس کے آگے اپنی عقیدت کے جذبات کو شمار کر سکیں۔ مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کے اندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔ ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے، جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔ مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو، اور انسان جو کائنات کا خلاصہ (finest product) ہے، اس کی عمر صرف چند سال۔ فطرت ہم کو بے شمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے، مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔ پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے، جو مادی دنیا اور انسانی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مادی دنیا انتہائی طور پر مکمل ہے۔ اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues