Al-Risala · May 2022 · page 20

دورِ جدید

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۰

دورِ جدید

پنڈت جواہر لال نہرو انڈیا کی ایک معروف شخصیت تھے ۔ وہ 1947ء سے 1964ء تک انڈیا کے پرائم منسٹر رہے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ انڈیا میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے ، وہ ہے سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) ۔ سائنٹفک ٹمپر کا مفہوم جواہر لال نہرو کے نزدیک یہ ہے کہ چیزوں میں غور وفکر کرنا ، اور ان کو سوچ سمجھ کر دلیل کی بنیاد پر ماننا ، نہ کہ صرف سن کر مان لینا:

The refusal to accept anything without testing and trial, the capacity to change previous conclusions in the face of new evidence, the reliance on observed fact and not on pre-conceived theory. (The Discovery of India, by Jawaharlal Nehru, Oxford, 1994, p. 512)

دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب ہے ریشنل اور منطقی طرز فکر ڈیولپ کرنا: Scientific temper refers to an attitude of logical and rational thinking. موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہا جاتا ہے۔ ایج آف ریزن کا مطلب ہے آزادی فکر (free thought) کا دور یا فری انکوائری کا دور۔ ایج آف ریزن نے تاریخ میں پہلی بار سوچنے کی راہ میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ کر دیا۔ فری انکوائری میں ہر چیز جور کاوٹ بنتی تھی، وہ سب ہٹ گئی۔ اس حقیقت کی طرف اس حدیث رسول میں اشارہ ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بیشک اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ دورِ جدید کے اعتبار سے اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم، بشمول فاجر انسان (including the irreligious) کے ذریعے برپا کیے ہوئے سائنسی اور فکری انقلاب سے دین کی مدد ہوگی۔

سائنس اور تعقل پسندی (rationalism) دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ سائنس نے دراصل پہلی بار علمی غور وفکر کے لیے ایک ریلائبل فریم ورک (reliable framework) دیا،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page