Al-Risala · May 2022 · page 21

قدیم دور، جدید دور

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۱

یعنی عقلی فریم ورک (rational framework)۔ سائنس کے دور سے پہلے انسان کے پاس آزادانہ فریم ورک (independent framework) نہیں تھا۔ علم کے ہر شعبے میں مذہبی اعتقاد کا غلبہ تھا، یعنی چیزوں کو صرف سن کر عقیدہ کے نام پر مان لینا۔ سائنس یا تعقل پسندی کا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے انسان کو یہ راستہ دیا کہ وہ کسی چیز کو صرف سن کر نہ مان لے، بلکہ وہ اس کی تحقیق کرے، اور جب تحقیق میں وہ بات ثابت ہو جائے، تو دلیل کی بنیاد پر وہ اس کو مانے۔ اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہے (الحجرات، 49:6)۔

قدیم دور، جدید دور

راکیش شرما (پیدائش 1949) پہلے ہندوستانی خلا باز تھے، جنھوں نے 1984 میں چاند پر قدم رکھا تھا۔ اُن دنوں ہندوستان میں یہ گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ٹائمس آف انڈیا (20 اپریل 1984) میں ایک دلچسپ لطیفہ نقل کیا گیا تھا: "Rakesh's journey into space" says the narrator, was tabled for discussion in our house. Every member of the family was expressing his or her opinion on the subject. Then my youngest daughter asked: "Dad, can I become the first Indian spacewoman?" "Yes dear" replied the grandmother, "you will be the first Indian spacewoman. I will consult Pandit Girdhar Vyas and see what is in store for you in your kundali." My eldest son, Arun, interjected. "Mom, you should consult the Russian leader, not astrologers."

" خلا میں راکیش (شرما) کا سفر" گھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ گھر کا ہر فرد اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کر رہا تھا۔ ایک دن کھانے کی ٹیبل پر، جب کہ گھر کے سب لوگ جمع تھے، میری چھوٹی بیٹی نے پوچھا: "پاپا، کیا میں پہلی ہندوستانی خلا باز خاتون بن سکتی ہوں؟ " دادی نے پیار سے جواب دیا، "یقیناً تم پہلی ہندوستانی خلا باز خاتون بن سکتی ہو۔ اس سلسلہ میں میں پنڈت گردھر ویاس کو تمھاری جنم پتری دکھا کر ان سے پوچھوں گی کہ تمھاری کنڈلی میں کیا لکھا ہوا ہے۔ " یہ سن کر میرے بڑے بیٹے ارون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا" دادی ماں، آپ کو روسی لیڈر سے مشورہ کرنا چاہیے، جو تشیوں سے نہیں۔ "

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page