Al-Risala · May 2022 · page 33

He shall be hanged

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳

ہوئِی۔ ان سے میں نے یہ کہا کہ زندہ قوم کے افراد میں اعتراف کی صفت ہوتی ہے، اور زوال یافتہ قوم کے افراد میں اعتراف کی صفت کا فقدان ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے کچھ مثالیں دیں۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے متنبی کا ایک شعر پڑھا جو یہ تھا ــ اگر تم شریف کو عزت دو تو تم اس کو اپنا غلام بنالو گے۔ اور اگر تم کمینہ آدمی کو عزت دو تو وہ سرکشی کرے گا: إِذَا اَنْتَ اَكْرَمْتَ الْكَرِیْمَ مَلَكْتَهُ     وَ اِنْ اَنْتَ اَكْرَمْتَ اللَّئِیْمَ تَمَرَّدَا 3 جنوری 1986 مسٹر بھیکا رام (پیدائش 1942ء) یوپی اسمبلی میں ایم ایل اے ہیں۔ وہ آج صبح کو ہمارے دفتر میں آئے۔ ان کے ہمراہ ان کے ساتھی نذر الاسلام صاحب بھی تھے۔ ان سے بڑی مفید باتیں ہوئیں۔ مسٹر بھیکا رام نے کہا کہ میرے نزدیک مذہب کی اصل تعلیم یہ ہے کہ سب انسان برابر ہوں۔ ہر قسم کی اونچ نیچ ختم ہو اور ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان نفرت نہ رہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے اور اگر اس ملک میں سچا اسلام پیش کیا گیا ہوتا تو آج ہمارا ملک مسلمان ہوتا۔ یہاں وہ سب جھگڑے موجود ہی نہ ہوتے جو اب دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ ہندی زبان میں اسلام کا مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو ’انسان اپنے آپ کو پہچان‘ کا ہندی ترجمہ بطور تحفہ دیا۔ میں نے مسٹر بھیکا رام سے مزید پوچھا کہ اپنا کوئی خاص تجربہ (انوبھو) بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ لالچ اور ذاتی فائدہ کو چھوڑ کر سبھی لوگوں کے بارے میں سوچنا، سب کے فائدے کو سامنے رکھ کر سوچنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ آپ لالچ کو تیاگ دیں، تبھی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ 4 جنوری 1986 ایک مسلمان لیڈر دہلی آئے اور مجھ سے ملے (نام بتانا مناسب نہیں)۔ ان کے پاس انگریزی زبان میں تیار شدہ ایک میمورنڈم تھا۔ اس کی ایک نقل انہوں نے مجھے دی۔ یہ میمورنڈم وہ وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس میمورنڈم میں مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا تذکرہ تھا۔ اس کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمان چونکہ معاشی دوڑ میں ملک کے اکثریتی فرقہ سے پیچھے ہو گئے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس وقت تک خصوصی رعایت دی جائے جب تک کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page