5 جنوری 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۴
معاش کے میدان میں اکثریتی فرقہ کے برابر نہ ہو جائیں۔
مذکورہ لیڈر صاحب کو میں پہلے سے جانتا تھا۔ مجھ کو معلوم ہے کہ ان کا اپنا بزنس ہے اور ان کے پاس کرائے کے مکانات ہیں۔ ان سب سے انھیں (1986ء میں) کم از کم دس ہزار روپے ماہوار آمدنی ہوتی ہے۔ جب کہ انھیں لیڈر صاحب کے ایک سگے بھائی ہیں جو مہینہ میں بمشکل پانچ سو روپے کماتے ہوں گے۔ میں نے لیڈر صاحب سے کہا کہ آپ کے فلاں سگے بھائی معاش کے اعتبار سے آپ سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ اس لیے آپ ایسا کریں کہ اپنی آمدنی کا نصف حصہ ہر ماہ اپنے بھائی کو دیتے رہیں، یہاں تک کہ وہ معاشی اعتبار سے آپ کے برابر ہو جائیں۔ یہ سن کر مذکورہ لیڈر ہنسنے لگے۔ ان کی ہنسی کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے کہا: آپ پر تعجب ہے کہ جو رعایت آپ اپنے سگے بھائی کے ساتھ نہیں کر سکتے ہیں، جو کہ مسلمان بھی ہے، اسی رعایت کا مطالبہ آپ مسلمانوں کے لیے ایک نان مسلم وزیر اعظم سے کرنے جا رہے ہیں۔ ہماری مسلم قیادت آج سب سے زیادہ جس چیز سے بے خبر ہے وہ یہ کہ موجودہ دنیا ر عایتوں کی دنیا نہیں، بلکہ مقابلے کی دنیا ہے۔ رعايتوں کو تلاش کرنے والا اس دنیا میں اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں کو مذکورہ قسم کے جھوٹے نعروں میں نہ الجھائیں، بلکہ انھیں صاف طور پر بتائیں کہ تم مقابلہ کی دنیا میں ہو۔ یہاں تم اہلیت کا ثبوت دے کر پا سکتے ہو۔ اگر تم اہلیت کا ثبوت نہ دے سکو تو یہاں تم کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔
5 جنوری 1986
شاہ واصف امام صاحب (پٹنہ) اپنے کسی کام سے دہلی آئے تھے۔ وہ آج مجھ سے ملنے کے لیے ہمارے مرکز (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) میں آئے۔ وہ دو سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں اور اردو اور انگریزی دونوں رسالوں کی ایجنسی بھی چلا رہے ہیں۔ ان کو میں نے دو کتابیں ہدیۂ دیں _ ’’حقیقت کی تلاش‘‘ اور ’’حل یہاں ہے‘‘۔
ان سے میں نے پوچھا کہ ’’الرسالہ‘‘ سے آپ کو کیا ملا۔ انہوں نے اس کے جواب میں جو کچھ