5 جنوری 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۵
کہا وہ انھیں کے الفاظ میں یہ تھا: ’’الرسالہ کے مطالعہ سے پہلے میں کسی شہر کو دیکھ کر اس کے بنانے والے انسانوں کی عظمت میں گم ہو جاتا تھا۔ لیکن الرسالہ کے مطالعہ کے بعد یہ حال ہے کہ میں شہر بنانے والے انسانوں کے خالق کی عظمت میں گم رہتا ہوں۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم ہے جس نے انسان کو یہ صلاحیت دی‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں شاہ واصف امام ہوں، اب میں سمجھتا ہوں کہ میں رب کا بندہ ہوں۔ یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ آج ہزاروں لوگ ہیں جن کے اندر الرسالہ پڑھنے کے بعد اس قسم کا ذہن بنا ہے۔ اللہ تعالیٰ الرسالہ کی آواز کو مزید پھیلائے اور اس کو دنیا کی ہر زبان میں پہنچانے کا انتظام فرمائے۔
تقریباً روزانہ ایسے خطوط آتے ہیں یا ایسے افراد سے ملاقات ہوتی ہے جو اس قسم کے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے قائدین نے اگرچہ ابھی الرسالہ کی آواز کو اہمیت نہیں دی ہے، مگر غیر قائدین میں الرسالہ کی آواز بہت بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اور روزانہ پھیل رہی ہے۔ تاہم اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حق کی بے آمیز دعوت کے ساتھ ہمیشہ یہی صورت حال پیش آئی ہے۔ 6 جنوری 1986 ایک مسلمان بزرگ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ انھوں نے بیٹھتے ہی کہا: ’’مطلقہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں ہندوستان کی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ شریعت میں جارحانہ مداخلت ہے۔ آپ اس کے خلاف کیوں نہیں لکھتے‘‘۔ موصوف کی مراد شاہ بانو بیگم۔ محمد احمد اندوری کے مقدمہ سے تھی۔ میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے اپنے جملے کو صحیح کیجیے۔ یہ جملہ میرے نزدیک صحیح نہیں۔ اصل بات جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون (شاہ بانو بیگم) ہندوستانی عدالت میں گئیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے فلاں ملکی قانون کے تحت میرے شوہر سے گزاره (maintenance) دلوایا جائے۔ عدالت نے معاملے کی تفصیلی سماعت کے بعد مسلم خاتون کے دعویٰ کو تسلیم کیا اور خاتون کے اپنے مطالبے کے مطابق فیصلہ دیا کہ مدعا علیہ ان کو 180 روپے ماہوار ادا کرے۔ اس کو آپ عدالت کی جارحیت نہیں کہہ سکتے، کیونکہ جارحیت کرنے والا وہ ہوتا ہے جو اقدام