5 جنوری 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۶
کرے ۔ اس معاملے میں عدالت نے اپنی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ وہ کوئی اقدام کر سکتی تھی ۔ اس معاملے میں اگر جارحیت ہوئی ہے تو وہ سراسر مسلم خاتون کی طرف سے ہوئی ہے ۔ یہ مسلم خاتون ( شاہ بانو بیگم ) تھیں جنہوں نے بطور خود عدالت میں جا کر مقدمہ پیش کیا اور عدالت سے کہا کہ وہ ان کو ملکی قانون کے تحت مذکورہ رقم دلوائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت کو جارح قرار دینا اپنی غلطی کو دوسرے کے اوپر ڈالنا ہے۔ اگر آپ کو اسلام کا درد ہے تو آپ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کی اصلاح کیجیے ۔ ان کے اندر یہ ذہن بنائیے کہ وہ اپنے ذاتی جھگڑوں کو عدالت میں نہ لے جائیں ، بلکہ کسی کو ثالث (mediator) بنا کر آپس میں بیٹھ کر سلجھائیں ۔ مدینہ کے منافقین اپنے جھگڑے یہودیوں کی عدالت میں لے جاتے تھے تو قرآن نے خود منافقین کو ملزم ٹھہرایا ، نہ کہ یہودی عدالت کو (4:60) ۔ 7 جنوری 1986 پاکستان کے ایک صاحب ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ وہ مکتبہ اسحاقیہ (کراچی) کے مالک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے انڈین ایئر لائنز میں سفر کیا۔ میں نے دیکھا کہ پاکستانی لوگ فیاضی کے ساتھ جہاز کے اندر شراب خرید رہے ہیں ۔ حالاں کہ پاکستان میں شراب پر پابندی ہے ۔ یہی حال ان تمام مسلم ملکوں کا ہے جہاں اسلامائزیشن کی نام نہاد تحریک چل رہی ہے۔ کاغذ پر اور تقریروں میں اسلام کی دھوم ہے ، مگر عملاً پورا معاشرہ اسلام کے خلاف چل رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک معاشرے کے افراد میں آمادگی پیدا نہ ہو جائے اسلامی قانون کا نفاذ ایک بے نتیجہ کام ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق ، اسلامی کام کا آغاز قلب و دماغ پر اسلام کے نفاذ سے ہوتا ہے ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 ) ، نہ کہ حکومت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ نفاذِ اسلام کا قانون بنا کر اسے بزور نافذ کرنے کی کوشش کرنا ۔
ایک صاحب ملنے کے لیے آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک عالم آئے تھے ۔ انہوں نے سورہ العصر کی تفسیر بیان کی ۔ اس میں انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس سورہ میں یہ فرمایا ہے :