9 جنوری 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۷
"اے نبی! لوگوں کو بتا دو کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے محمد کو دے دیا۔ اب جس کو لینا ہے وہ تمہارے پاس آکر لے۔ میرے پاس اب کچھ نہیں"۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے خدا کی کتاب میں کیا کیا تحریفات کی ہیں۔ وہ قرآن کے ’’متن‘‘ میں تو کوئی اضافہ نہ کر سکے، مگر انہوں نے قرآن کے حاشیے میں وہ سب کچھ لکھ دیا جو پچھلی امتوں نے ’’متن‘‘ میں لکھا تھا۔
مسلمانوں نے اگر قرآن کے متن میں کوئی تحریف نہیں کی تو اس کا انھیں کوئی انعام ملنے والا نہیں، کیونکہ متن میں تحریف سے تو ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پھر وہ متن میں تحریف کرتے تو کیسے کرتے۔ وہ صرف حاشیے میں تحریف کر سکتے تھے اور یہ کام انہوں نے اتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا ہے جتنا پچھلی قوموں نے اس سے پہلے متن میں کیا تھا۔
9 جنوری 1986
ایک مسلمان بزرگ نے ایک ہندی کتاب کا ذکر کیا۔ جو بچوں کے نصاب میں داخل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں تغلق بادشاہ پر ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں یہ الفاظ ہیں: ’’تغلق تھا تو مسلمان، مگر تھا بڑا دیالو‘ مذکورہ مسلمان بزرگ نے شکایت کی کہ نصاب کی کتاب میں اس طرح کی باتیں شامل کر کے نہایت منصوبہ بند طریقے سے بچوں کا ذہن بگاڑا جا رہا ہے کہ مسلمان وحشی اور خونخوار ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں بلکہ خود مسلم قوم پر ہے۔ مسلمانوں نے اپنی یہی تصویر بنائی ہے تو دوسرے لوگ اس کے سوا مسلمانوں کو اور کیا سمجھیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے ایک بڑے ملی شاعر نے فخر کے ساتھ کہا ہے:
تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجرِ ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا پھر جب خود آپ کا نمائندہ یہی کہہ رہا ہو تو دوسرے لوگ اس کے سوا کچھ اور کیسے کہہ سکتے ہیں۔ ایک اور صاحب ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز مؤرخین نے نہایت ہوشیاری کے