Al-Risala · May 2022 · page 38

10 جنوری 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۸

ساتھ ذہنوں کو بگاڑا ہے۔ مثلاً ہندوستان کی ایک انگریزی تاریخ میں تین دور کے لیے اس طرح مختلف الفاظ لکھے گئے ہیں:

Advent of Aryans Invasion of Muslims Influence of the British یعنی آریہ کی آمد، مسلمانوں کا حملہ اور برطانیہ کے اثرات۔

10 جنوری 1986

کہا جاتا ہے کہ خدا کے 99 نام ہیں۔ لوگ ان ناموں کو یاد کر کے ان کا ورد کرتے ہیں۔ مگر یہ نام محض نہیں، وہ دراصل خدا کی صفتیں ہیں۔ خدا ایک ہے، اس لیے اس کا نام بھی حقیقتاً ایک ہے۔ مگر اس کی صفتیں بے شمار ہیں۔ ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ کے 99 سے زیادہ نام ہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 3712)۔

میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خدا کی بعض ایسی صفتیں دریافت کی ہیں جو میری اپنی دریافت ہیں، جن کو میں نے اس سے پہلے کتابوں میں نہیں پڑھا تھا۔ مثلاً میں ایک بار وسیع خلا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں خدا کی ایک نئی صفت دریافت کر رہا ہوں۔ اس صفت کو self-confidence کہہ سکتے ہیں۔ یعنی خود اعتمادی۔ وسیع خلا میں اتنے بے شمار اجرام کو متحرک کرنا ایک بے حد نازک کام تھا۔ خدا نے اتنی بڑی کائنات بنائی اور دوسری طرف انسان کو آنکھ دے دی کہ وہ دیکھے کہ کیا وہ اس میں کوئی بدنظمی یا انتشار پاتا ہے؟ غیر معمولی سیلف کانفیڈنس کے بغیر اتنا بڑا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح میں نے ایک روز خدا کی ایک اور صفت دریافت کی۔ اور وہ ہے: ہےپرفکشنسٹ ہونے کے باوجود امپرفکشن سے ڈسٹرب نہ ہونا۔

میرا اپنا یہ خیال ہے کہ مجھے دھوئیں سے چکر آ جاتا ہے۔ شور سے میرا ذہن منتشر ہو جاتا ہے۔ گندگی کا دیکھنا میں برداشت نہیں کر پاتا۔ اسی لیے موجودہ دنیا مجھے وحشت خیز چیز معلوم ہونے لگی ہے۔ مگر خدا کامل اختیار کے باوجود انسانوں کی تمام خرافات کو گوارا کیے ہوئے ہے۔ خدا حد درجہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page