Al-Risala · May 2022 · page 39

12 جنوری 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۹

معیار پسند ہونے کے باوجود مسلسل طور پر غیر معیاری چیز کو دیکھتا ہے اور وہ ڈسٹرب نہیں ہوتا۔ کیسا عجیب قدرت والا ہے خدا۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھیں الرسالہ کے بارے میں یہ شکایت تھی کہ اس میں مسلمانوں پر تنقید ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں پر تنقید کرنا اغیار کو خوش ہونے کا موقع دینا ہے۔ اس لیے ان کا مشورہ تھا کہ مسلمانوں پر کھلی تنقید نہ کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قوم پرستی کہا جاتا ہے۔ یہ اصولی معاملہ میں حساس ہونے کے بجائے قومی معاملہ میں حساس ہونا ہے۔ حقیقت کا مجروح ہونا آپ کو نہیں تڑپاتا۔ البتہ قومی فخر مجروح ہو تو آپ تڑپ اٹھتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے اس مشورے کو قبول نہیں کر سکتا۔

12 جنوری 1986

تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک عالم سے اپنی گفتگو نقل کی۔ مذکورہ عالم نے ان سے یہ شکایت کی کہ تبلیغی جماعت کے لوگ جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے جہاد کو نہیں چھوڑا ہے۔ البتہ قتال سے ہم الگ رہتے ہیں۔ آپ نے خود کتاب ’’نورالأنوار‘‘ (جلد 1، صفحہ 172-170) میں ہم کو یہ پڑھایا ہے کہ: جہاد حسن لذاته ہے، قتال حسن لغيره هے اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ جہاد ہے، نہ کہ قتال۔ چنانچہ دعوت کا جو کام ہم کر رہے ہیں وہ عین جہاد ہے، اگرچہ وہ قتال نہیں۔ پھر آپ کو ہمارے اوپر کیا اعتراض ہے۔

پچھلی ڈائری دیکھ رہا تھا۔ اس میں 2 نومبر 1979 کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل تحریر ملی۔ یہ میں نے جمعیۃ بلڈنگ (پرانی دہلی) میں لکھی تھی:

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page