Al-Risala · May 2022 · page 40

12 جنوری 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۰

آج مولانا محمد شعیب کوٹی اور مسٹر غلام نبی شاہین کشمیری سے گفتگو ہوئی۔ یہ دونوں جماعت اسلامی کے سیاسی فکر سے اتفاق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس وقت بظاہر لوگوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم دنیا میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا فکر غالب ہے۔ مگر بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ یہ فکر مغلوب ہو جائے گا اور الرسالہ کا فکر مسلم دنیا میں غالب فکر کی حیثیت حاصل کر لے گا۔ آپ لوگوں کو آج میری یہ بات بہت عجیب معلوم ہوگی۔ مگر، ان شاء اللہ، آپ لوگ یہ دیکھنے کے لیے زندہ رہیں گے۔ اگرچہ میں شاید اس وقت مر چکا ہوں گا۔

پھر میں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا جو فکر ہے اس کے اندر صرف وقتی قدر ہے۔ وہ دائمی قدر کا حامل نہیں ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کی دنیا میں جو سیاسی افکار اٹھے اور مسلمانوں کے اندر نو آبادیاتی غلبہ کے نتیجے میں دوسرے اسباب سے جو رد عمل پیدا ہوا، اس کے ماحول میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا فکر بنا۔ یہ فکر مخصوص سیاسی دور کی پیدا وار ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی پیدا وار۔ چنانچہ انہوں نے اسلام کو سیاسی انقلاب کے روپ میں پیش کر دیا۔

اسلام کی سیاسی تعبیر بنیادی طور پر اپنے زمانے کے سیاسی حالات کا رد عمل ہے۔ اور یہ زمانہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ آج کا انسان فطرت کی زمین پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کی ساری اہمیت سیاسی حالات کی زمین پر ہے۔ آنے والا انسان جو فطرت کی زمین پر کھڑا رہنا چاہے گا، اس کے لیے فکری تسکین صرف الرسالہ کے پیغام میں ہوگی اور اس وقت کے آنے میں شاید دس سال سے زیادہ نہیں لگیں گے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مجھ پر بعض لمحاتی تجربے گزرتے ہیں۔ یہ تجربے انتہائی لطیف اور انتہائی حد تک نا قابل بیان ہوتے ہیں۔ ان کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ الفاظ صرف اصل تجربہ کی علامت ہوں گے، نہ کہ اصل تجربہ کا بیان۔ مثلاً میری سابقہ ڈائری میں 22 مارچ، 1980 کی تاریخ کے ساتھ ایک تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے:

آج میں اپنی کتاب’’عظمت قرآن‘‘ کا دیباچہ لکھ رہا تھا۔ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page