12 جنوری 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۱
گزرا۔ مجھے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اس کو لکھ رہا ہوں اور خدا کی خصوصی تائید اتر رہی ہے، جس کو میں سکینت کہا گ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3614)۔
اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میرے اندر کا غم کچھ الفاظ کی صورت میں ٹپک پڑتا ہے۔ یہ سارا عمل بالکل بے اختیارانہ ہوتا ہے۔ یعنی میں سوچ سمجھ کر یہ الفاظ نہیں بولتا۔ بلکہ یہ الفاظ اپنے آپ ایک بے حد درد انگیز کیفیت کے ساتھ زبان پر آجاتے ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ یہ فقرہ میری زبان پر آگیا: ’’ لوگ جنت کا نام لیتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال بتاتے ہیں کہ انھیں جنت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ‘‘ 22 فروری 1985 کا ایک لمحاتی تجربہ میری ڈائری میں ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے: ’’ آج دن میں ایک عجیب تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ہر آن ختم ہو رہا ہوں اور ہر آن دوبارہ زندہ ہو رہا ہوں۔ جیسے کہ ہر آن میں اپنے موجودہ لمحہ میں ختم ہو رہا ہوں اور ہر آن اپنے اگلے لمحہ میں دوبارہ موجود ہو رہا ہوں۔ ‘‘ 15 جنوری 1986 ایک بزرگ نے قرآن کی تفسیر لکھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ شعر کہا:
روز قیامت ہر کسے با خویش دارد نامه من نیز حاضرم شوم تفسیر قرآں در بغل ایک معروف عالم دین نے اپنی سیرت کی کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے:
’’... سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ (کتاب) خدا کے یہاں قبول اور مصنف کے لیے ذریعۂ مغفرت اور وسیلۂ شفاعت ہو تو وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اسی کو یہ کہنے کا حق ہوگا: شادم از زندگی خویش که کارے کردم میرا مزاج اس معاملے میں سراسر مختلف ہے۔ میرے ذہن میں کبھی بھی یہ خیال نہیں آتا کہ قیامت کے دن جب خدا پوچھے گا کہ تو کیا لایا یا تو میں کہہ دوں گا کہ فلاں کتاب لکھ کر لایا ہوں۔ اس قسم کی باتیں مجھے خدا کا کمتر اندازہ (underestimation) معلوم ہوتی ہے۔ خدا اس سے بہت برتر ہے کہ اس کے یہاں ہم اپنی کتاب پیش کریں۔ درخت کی ایک پتی بھی انسانوں کی