Al-Risala · January 2022 · page 16

ارتقا کے دلائل

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۶

2_ ڈھانچہ میں ارتقائی مشابہت سے بھی اصلاً جو بات ثابت ہوتی ہے وہ صرف یہ کہ مختلف جاندار، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے، ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں بعض پہلوؤں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ مگر اس سے کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ایک قسم کا جانور دوسری قسم کے جانور کے پیٹ سے نکلا ہے۔ بیل گاڑی، گھوڑا گاڑی اور کار کے ڈھانچوں میں بعض پہلوؤں سے مشابہت ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کس قدر عجیب ہوگا کہ بیل گاڑی کے بطن سے گھوڑا گاڑی نکلی ہے اور گھوڑا گاڑی کے بطن سے کار نے جنم لیا ہے۔ اور کار کے بطن سے ہوائی جہاز برآمد ہوا ہے۔

3_ متحجرات (fossils) کے مشاہدہ میں بھی مذکورہ بالا نظریہ کے لیے کوئی لازمی دلیل نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں طبقاتی ترتیب کو اگر بلا بحث مان لیا جائے تب بھی اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ زمین کے اوپر حیوانات کی آبادکاری میں ایک ترتیب ہے۔ ایک قسم کے جانور ایک زمانہ میں وجود میں آئے۔ دوسری قسم کے جانور دوسرے زمانہ میں۔ مثلاً جس زمانہ میں بندر وجود میں آئے، ٹھیک اسی زمانہ میں انسانی نسل شروع نہیں ہوئی۔ اسی طرح جس زمانہ میں مچھلیاں یا چھپکلیاں بنیں، اسی وقت بندر کی نسل کا آغاز نہیں ہوا، وغیرہ۔ یہاں بھی یقیناً وہی آرگیمینٹ ہے کہ اس سے تخلیق کی ترتیب ثابت ہوتی ہے، نہ کہ ارتقا کی ترتیب۔ یعنی ایک کے پیٹ سے دوسرا، دوسرے کے پیٹ سے تیسرا نکلا۔ یہ ایک علیحدہ مفروضہ ہے۔ مذکورہ مشاہدات میں اس کے لیے براہِ راست دلیل موجود نہیں ہے۔ متحجر ہڈیوں کے مطالعہ میں خواہ کتنی ہی احتیاط برتی جائے، ان سے جو بات ثابت ہوگی، وہ صرف یہی ہے کہ کس قسم کے جانور کی ہڈیاں کتنے ہزار سال سے زمین میں دفن ہیں، نہ یہ کہ کون سا جانور کس کے بطن سے نکلا ہے۔

موجودہ ارتقائی تحقیقات سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو صرف یہ کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں وہ سب بیک وقت اول روز سے زمین پر موجود نہیں ہوگئے ہیں۔ بلکہ ان کی تخلیق میں ایک زمانی ترتیب ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ہر جاندار اپنے وقت میں مستقل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page