Al-Risala · January 2022 · page 17

Belief in God hardwired in our brain

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۷

طور پر پیدا کیا گیا ایسا ہوا بطریقِ تناسل ایک جاندار کے بطن سے دوسرا جاندار نکلتا ہے۔ جہاں تک دوسرے مفروضہ کا تعلق ہے اس کے حق میں ابھی تک کوئی دلیل یا مشاہدہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف جاندار اول کی حد تک سائنسداں یہ مانتے ہیں کہ وہ پہلی بار مستقل طور پر وجود میں آیا ہے۔ پھر جو مفروضہ پہلے جاندار کے لیے صحیح سمجھا گیا ہے وہی دوسرے جاندار کے لیے بھی کیوں صحیح نہیں ہوسکتا۔ جب کہ تحقیقات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پہلا جاندار امیبا (Amoeba) اپنے جسمانی نظام میں بعض اعتبار سے وہی تمام پیچیدگیاں رکھتا ہے جو آخری جاندار (انسان) میں پائی جاتی ہیں۔ اگر پہلے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا قدرت کے لیے ممکن تھا تو دوسرے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا اس کے لیے کیوں ناممکن ہو گیا۔

ایک مثال

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 ستمبر 2009) میں ایک خبر چھپی تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا کہ خدا کا عقیدہ انسان کے دماغ میں پیوست ہے:

Belief in God hardwired in our brain

خبر میں بتایا گیا تھا کہ انگلینڈ کی برسٹول یونیورسٹی (Bristol University) میں ایک رسرچ ہوئی ہے جس کا نتیجہ ٹائمس آن لائن (Times Online) میں چھپا ہے۔ اس رسرچ میں بتایا گیا ہے کہ خدا کا عقیدہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے۔ ارتقا کے دوران انسان کی اس طرح پروگرمنگ ہوئی ہے کہ وہ خدا پر عقیدہ رکھے، کیوں کہ اس سے اُنھیں زندہ رہنے کا زیادہ بہتر موقع ملتا ہے:

We are born believers. Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance to survival. (p. 17)

اس بیان میں عقیدہ خدا کا فطری ہونا تو رسرچ کا حصہ ہے، لیکن ارتقاء (evolution) والی بات رسرچ کرنے والوں کا اپنا اضافہ ہے۔ حقیقی مشاہدات میں اسی قسم کے مفروضات کے اضافے سے حیاتیاتی ارتقا کا پورا نظریہ قائم کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page