Al-Risala · September 2022 · page 6

شکر ایک اعلیٰ عبادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۶

شکر گزار نہ پائے گا وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ:

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں: وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ رہے ہیں اور آج بھی وہ بہت زیادہ ہیں۔ ایسے لوگ بے شمار ہیں جو اپنی گفتگو کے دوران بار بار الحمد لله، اللہ کا شکر ہے اور اللہ کا فضل ہے، جیسے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دنیا بظاہر شکر کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے، پھر مذکورہ قرآنی بیان کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں___ لسانی شکر، اور قلبی شکر۔ لسانی شکر کو نارمل شکر، اور قلبی شکر کو تھرلنگ (thrilling) شکر کہہ سکتے ہیں۔ خدا کی خدائی شان کے مطابق، شکر صرف وہ ہے جو تھرلنگ شکر ہو۔ نارمل شکر صرف ایک لپ سروس (lip-service) ہے۔ اس قسم کا شکر خدا کو مطلوب نہیں۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ خدا کے لیے انسان کا شکر ایک اضافہ پذیر شکر ہو۔ جو شکر ایک حالت پر قائم ہو جائے، وہ ایک جامد شکر ہے۔ اور جامد شکر وہ شکر نہیں جو خدا کے نزدیک مطلوب شکر کی حیثیت رکھتا ہے۔

تھرلنگ شکر صرف اُس شخص کو ملتا ہے جو خدا کے احسانات (blessings) پر مسلسل غور کرتا رہے۔ انسان کے اوپر خدا کے احسانات لامحدود ہیں۔ اس لیے جو آدمی اس پہلو سے غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر وقت ایک نئے خدائی احسان کو دریافت کرے گا، وہ ہر وقت ایک نئے سبب شکر کا تجربہ کرے گا۔ اس کے یہ تجربات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس لیے اس کے اندر شکرِ خداوندی کا احساس بھی مسلسل طور پر زندہ رہے گا۔

میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سوچا کہ انسان کی قوتِ سماعت بھی کیسی عجیب ہے کہ اس کے کان میں بے شمار قسم کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ ہر آواز کو تمیز

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page