شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۷
(differentiate) کر کے اس کو الگ سے پہچان لیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک ہاتھ کو حرکت دی اور بات کرنے کے لیے ریسیور کو اٹھایا۔ دوبارہ میں نے سوچا کہ میرے جسم میں بہت سے اعضا ہیں، لیکن میرے دماغ نے صرف ایک عضو (ہاتھ) کو متحرک کیا کہ وہ ریسیور کو اٹھائے۔ اس عمل میں آنکھ کا بھی ایک حصہ تھا، کیوں کہ اگر آنکھ اپنا عمل نہ کرتی تو مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ریسیور کہاں ہے۔
جب میں نے ٹیلی فون پر بات کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون کے دوسری طرف جو آدمی ہے، وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میں اس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری مادری زبان اردو ہے، اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میں کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہوں، جب کہ میں اس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میں نے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے ۔ جو اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور (instantly) اردو میں ڈھال دے۔ اور اس طرح متکلم کی بات کو بلا تاخیر میرے لیے قابل فہم بنا دے۔ اس طرح کی بہت سی باتیں اُس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا اور دوسری طرف، عین اُسی وقت میں خدا کے بارے میں تھرلنگ شکر کا تجربہ کر رہا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ شدید تھا، جیسے کہ شکر کا ایک دریا میرے سینے میں جاری ہو گیا ہو۔ اسی طرح ہر لمحہ انسان کو ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کے اندر شکر کا سمندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس اعلی شکر تک آپ کی رسائی صرف غور وفکر کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی اعلی شکر کا دروازہ ہے۔ جس آدمی کے اندر سوچ نہ ہو، اس کے اندر شکر بھی نہ ہوگا۔ ایسا آدمی ہر چیز کو فار گرانٹیڈ (for granted) لیتا ہے۔
جو انسان چیزوں کو فار گرانٹیڈ طور پر لے گا، وہ خدا کی نعمتوں کی کوئی قدر نہیں کرے گا، وہ شکر کے سمندر کے درمیان رہتے ہوئے بھی تھرلنگ شکر کا تجربہ نہیں کرے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues